غیبت سے کیا مراد ہے

 

غیبت سے کیا مراد ہے


 غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کے پوشیدہ عیوب کو (جن کا دوسروں کے

سامنے ظاہر ہونا اسےناپسند ہو) اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ، اور اگر وہ بات اس میں

موجود نہ ہو تو اسے بہتان کہتے ہیں۔ مثلا مجھے بے وقوف بنا رہا تھا، اس کی نیت خراب ہے ، ڈرامہ

باز ہے وغیرہ

(ماخوذ از بهار شریعت حصہ ۱۲ ص ۱۳۹)

 

غیبت سے کیا مراد ہے کے ببارے



رسول اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا: تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے؟

لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔

ارشاد فرمایا “

محبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کےبارے میں ایسی بات کہو جو اسے

بری لگے ۔

کسی نے عرض کی : اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو اس کو

بھی کیا غیبت کہا جائے گا ؟ ارشاد فرمایا: “جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس

میں موجود ہو جبھی تو غیبت ہے اور اگرتم ایسی بات کہ جو اسں میں

موجود نہ ہو تو یہ بہتان ہے

مسلم ، کتاب البوالصلتہ، باب تحریم الغیتہ، رقم ٢٥٨٩ ،ص١٣٩٦

غیبت اس قدر برا کام ہے کہ اسے اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے،

  چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

 

” وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لحم أخيه ميتا فكر ھتموه

 

ترجمہ کنز الایمان اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی یہ پسند رکھے گا کہ اپنے مرے

ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ، تو یہ تمہیں گوارانہ ہوگا۔  

 (پ ۲۹، الحجرات : ۱۳) 

حضرت سید نا ابوامامہ سے روایت ہے کہ سرور کونین نے فرمایا: ” قیامت کے دن ایک شخص کو

اسکا نامہ اعمال پڑھنے کیلئےدیا جائے گا اور اسے دیکھ کر کہے گا: اے میرے رب ! میری فلاں فلاں

نیکیاں کہاں ہیں جو میں نے کی تھیں ؟

  ” رب تعالیٰ فرمائے گا

کہ لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے میں نے تیرے نامہ اعمال سے وہ نیکیاں مٹادی ہیں ۔

الترغیب والترہیب، کتاب الادب، رقم الحدیث ۱۳۰، ج ۳، ص ۳۳۲

 

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post