نعت شریف
خالد محمود خالد
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
کسی کا احساں کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں
تمہیں سے مانگیں گے تم ہی دو گئے تمہارے در سے لو لگی ہوئی ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پر خطا کی قسمت
میں اس کرم کا کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے
بشیر کہیے نزیر کہیے انہین سراج منیر کہیے
جو سر بسر ہے کلام ربی میرے نبی کی وہ زندگی ہے
یہی ہے خالد اساس رحمت یہی ہے خالد بنائے اُلفت
نبی کا عرفان زندگی ہے بنی کا عرفان بندگی ہے
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

Post a Comment