Mangtay Khali Haath Na Lutay -Naat Sharif

 




مانگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو
 

میں کیا اور کیا میری حقیقت سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
میں تو برا ہوں لیکن میری لاج ہے کس کے ہاتھ نہ پوچھو
 
عشقِ نبی کونین کی دولت عشقِ نبی بخشش کی ضمانت
اس سے بڑھ کر دست طلب میں کوئی اور سوغات نہ پوچھو
 
تاج شفاعت سر پر پہنے حشر کا دولہا آ پہنچا ہے 
آنکھیں کھولو غور سے دیکھو کس کی ہے بارات نہ پوچھو
 
ظاہر میں تسکین دل و جاں باطن میں مدراج دل و جاں 
نام نبی پھر نام نبی ہے نام نبی کی بات نہ پوچھو
 
خالد میں صرف اتنا کہوں گا جاگ اٹھا اشکوں کا مقدر 
یاد نبی میں روتے روتے کیسے کٹی رات نہ پوچھو 
 


0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post