مانگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھو ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو
میں کیا اور کیا میری حقیقت سب کچھ ہے سرکار کی نسبت میں تو برا ہوں لیکن میری لاج ہے کس کے ہاتھ نہ پوچھو عشقِ نبی کونین کی دولت عشقِ نبی بخشش کی ضمانت اس سے بڑھ کر دست طلب میں کوئی اور سوغات نہ پوچھو تاج شفاعت سر پر پہنے حشر کا دولہا آ پہنچا ہے آنکھیں کھولو غور سے دیکھو کس کی ہے بارات نہ پوچھو ظاہر میں تسکین دل و جاں باطن میں مدراج دل و جاں نام نبی پھر نام نبی ہے نام نبی کی بات نہ پوچھو خالد میں صرف اتنا کہوں گا جاگ اٹھا اشکوں کا مقدر یاد نبی میں روتے روتے کیسے کٹی رات نہ پوچھو
Post a Comment