نزدیک آرہا ہے رمضان کا مہینہ
ساحل سے حاجیوں کا پھر آلگا سفینہ
آقا نہ ٹوٹ جائے دل کا آبگینہ
اب کے برس بھی مولی رہ جاؤں میں کہیں نا
دل رو رہا ہے جن کا آنسو چھلک رہے ہیں
اُن عاشقوں کا صدقہ بلوائے مدینہ
ہجر و فراق میں دل بے تاب ہو رہے ہیں
عشاق رو رہے ہیں لو چل دیا سفینہ
روضے کو دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیں
اے والئی مدینہ اب تو بلائیے نا
بس آرزو یہی ہے قدموں میں جان نکلے
پیارے نبی ہمارا مدفن بنے مدینه
عطار کی حضوری کی آرزو ہو پوری
ہو جائے دُور دُوری اے والی مدینہ
.webp)
Post a Comment